Tuesday, December 1, 2015

میئرکراچی

 میئرکراچی

نہ جعلی جس کی ڈگری ہو
نہ پیشہ جس کا  زمینداری ہو
نہ کاروباری، نا درباری ہو
خان، جمالی، مزاری اور نہ ہی زرداری ہو
نہ رہن سہن جس کا سرداری ہو
نہ ذہنیت جس کی پٹواری ہو
نہ  تبدیلی کی جس میں مکاری ہو
نہ شہرت جس کی بدکاری ہو

نہ دست راست خودکش بمباری ہو

میئر پھر کیسا ہونا چائیے ؟؟؟

میئر تو پڑھا لکھا ہونا چاہئے
میئر تو نوجوان ہونا چاہئے
لب و لہجہ اور زبان معیاری  ہونا چاہئے
"رہنما " اس کا مثالی ہونا چاہئے
میئر کو تو شہر کا سرپرست ہونا چاہئے
میئر کو تو حق پرست ہونا چاہئے

یعنی

میئر تو اپنا ہونا چاہئے

فواد رحمٰن
 


Twitter ID: @fawadrehman

Wednesday, August 13, 2014

Unity, Faith and Discipline - Red, Green and White


"I have no doubt that with unity, faith and discipline we will compare with any nation of the world. You must make up your minds now. We must sink individualism and petty jealousies and make up our minds to serve the people with honesty and faithfulness. We are passing through a period of fear, danger, and menace. We must have faith, unity and discipline."

With those historic words, Quaid-e-Azam set a path in front of the fledgling country which, if followed, would create a strong nation and a proud people. And, as it should have been, Pakistan adopted the concept of the Quaid’s words. The motto of “Unity, Faith, Discipline” was chosen to be the guiding rules for a new-born country. At least in theory.

It did not take generations for this selective amnesia to set in neither did it take much time. All that was needed to lead us astray from our guiding light was abject greed. And so, another motto was born: “Self-absorption, Self-preservation, Selfishness.” In today's Pakistan, these rules seem to be working fine for those who are in power, but at the cost of the powerless. In these times, when the words of the Quaid could have propelled us to the forefront of the world, we limp behind because we chose to forget our concept.

All political parties have shouted “Unity, Faith, and Discipline” from the rooftops at one time or another but none have chosen to follow them. These words have become an empty motto, something to get the attention of the desperate masses, who turn their faces hopefully towards every bright glimmer only to be seared by blinding selfishness.

One political party however has been following the Quaid’s rules all along and that is the MQM. It has always declared its absolute patriotism to Pakistan and had claimed that its guidelines closely follow those set by the Quaid.

MQM has always claimed that its only agenda is the progress and safety of Pakistan-- protecting it from enemies within and without. Since its inception it has been working towards being a party for all Pakistanis, beyond ethnic and linguistic divides. It has been successful in becoming an organization striving for sectarian and religious harmony and united in its goal towards a progressive and peaceful Pakistan.

MQM points its guiding compass towards the day when all the citizens of Pakistan will be Pakistanis and nothing else. Where other parties have exploited the fractures caused by linguistic and ethnic differences, MQM has been the only party with a firm belief that one day there will be a united Pakistan. With such faith comes optimism and fervor to work towards a future which might seem futile to others. When the Army decided to launch operation Zarb-e-Azb, they had the unconditional support of MQM and the party declared as much from multiple platforms. MQM feels that any action that fragments an already delicate ethnic situation can only weaken the country further and those who chose that path are not interested in a united country.

One of the main reasons for the success of MQM as a political party as well as an implement of positive change is the extreme discipline followed by the workers. This discipline has been demonstrated within their own organization as well as public congregations and conventions. People are expected to follow rules and the example is set by the organizers of the party. Where other parties are saying: do as I say and not as I do, MQM leads by example.


On the day we celebrate our independence, we must re-evaluate our path. As Pakistanis we are all fiercely patriotic. We are willing to do everything for our country but we need a guiding star. An unerring compass that shows us a path to a progressive and successful Pakistan. MQM provides that leadership by following the guidelines set forth by our founder: unity, faith, discipline.

Also Published:
ARY Blog


Twitter ID: @fawadrehman

Thursday, June 19, 2014

مونچھیں ہوں تو گللو بٹ جیسی


اگر ہندوستانی فلم ' شرابی ' 2014 میں بنتی تو یقینن امیتابھ بچن کا مشہور ڈائلاگ یہ ہوتا ' مونچھیں ہوں تو گللو بٹ جیسی ورنہ نہ ہوں '. اگر نصرت فتح علی خان زندھ ہوتے تو اپنے گانےآفریں  آفریں ' میں گللو بھائی کی موچھوں  کا ذکر کچھ یوں کرتے " مونچھیں جانا کی بھی لمبے ہے داستان ، مونچھیں زنجیر ہے پھر بھی ہے کتنے حسین".

 منہاج القرآن کے دفتر کے باہر ہونے والے قتل عام کے بعد ٹی وی کی زینت بنے والے گللو بٹ عرف گللو بھائی کی شخصیت صرف موچھوں کی حد تک محدود نہیں ہے بلکے وہ اپنے کئی کارناموں کی وجہ سے پورے پنجاب میں اپنا نام رکھتے ہیں. تعلیم اور زہن کی کمی کی وجہ سے جوان ہوتے ہی سیاست میں آگے، مسلم لیگ ن کو دل اور کم عقل کے قریب تر پایا اور اس کا حصہ بن گئے. مسلم لیگ ن کی زرے سایہ جہادی تنظیموں سے فسادات کا ڈپلوما لینے کے بعد  پنجاب کے ایک مہشور وزیر کے ساتھ انٹرنشپ کی. لوگوں کی ہڈی پسلی توڑتے ہوے ترقی کی سیڑھیاں عبور کیں اور وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف سے شیر لاہور کا خطب لیا. آج کل جونیئر وزیر اعلی حمزہ شہباز کے تمام دو نمبر مسائل کا حل گللو بھائی ہی ہیں .

 فارغ اوقات میں حلال روزی کے لیے  گللو بٹ علاقے میں بھتہ خوری، اغوا، مار پیٹ جسے نیک کام بھی کرتے ہیں.

پنجاب سے باہر کی عوام نے پہلی بار  گللو بھائی کو منہاج القرآن کے دفتر کے باہر  live in action میں دیکھا، شیر لاہور ایک ڈنڈا اٹھایے الله اکبر کا نعرا بلند کرتے ہویے کافر کاروں کے ہجوم میں اکیلے کود پڑے. کیا بروس لی ڈنڈا گھماتا ہو گا جو گللو بھائی نے گمایا، کاریں  منہ دیکھتی رہ گیں اور پہلی کار آنن فانان اپنے تمام شیشوں سے محروم ہو گئی. گللو بھائی فاتحانہ انداز میں پلٹے اور ٹی وی کمروں کی طرف دیکھ کر بولے " ہاں بھائی .... کیسا دیا ؟ "

شیر لاہور آگے بڑھ رہا تھا اور کاروں کے شیشے زمین چوم رہیے تھے. جس طرح شاہد آفریدی کے چھکے چوکوں سے دنیا لطف اندوز  ہوتی ہے اسی طرح لاہور کے  پولیس والے بھی گللو بھائی کے  چھکے چوکوں سے دور کھڑے  لطف اندوز ہو رہیے تھے. 

ابھی  باقی ماندہ کاروں کے شیشے جہنم رسید ہوتے کہ گللو بھائی کے کان میں آواز آی ' پروڈیوسر  صاحب بریک کا بول رہا ہے "خیر گللو بھائی نے پانی کی بریک لی، قریبی دکان کے شیشوں کو توڑتے ہوے فریزر تک پونچ گئے، ٹھنڈے مشروبات کی بوتلیں خادم اعلی کا مال سمجھتے ہوے نکالیں. خاندانی آداب تھے  اکیلے کیسے پیتے؟ ٹھنڈی ٹھنڈی بوتلیں لے کر  قریبی کھڑے پولیس کے اعلی افسران کے پاس گئے اور مفتا پھوڑا.   

بریک ختم ہوتے ہی گللو بھائی دونوں ہاتوں سے ڈنڈا تھامے کاروں کی جانب دورے لیکن اس بار گللو بھائی کی پتلون نے ان کا ساتھ جھوڑ دیا اور پتلون بٹ صاحب کے بٹ تک پہنچ گئی مگر گرتی ہوئی پتلون بھی گللو بھائی کے حوصلوں کو نہ گرا سکی اور گللو بھائی ایک ہاتھ سے اپنی پتلون اور دوسرے ہاتھ سے ڈنڈا تھامے  باقی ماندہ کاروں کو ناسبونابود کرتے رہے.  


کام ختم ہوتے ہی گللو بھائی نے  جیب سے فون نکالا , کسی اعلی شخصیت کو فون کرکے شاباش لی , فتح کا بھنگڑا ڈالا اور پولیس والوں کو high five دیتے ہویے میدان جنگ سے نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہو گئے. 

لاہور واقعے کے بعد گللو بٹ مسلم لیگ ن کے ساتھ ساتھ میڈیا کی بھی جان اور شان بن گئے ہیں. اب دیکھتے ہیں گللو بھائی کو کون کون سے اشتہارات ملتے ہیں?

کہتے ہیں جو ہوتا ہے وہ  اچھے کے لیے ہوتا ہے، پہلی اچھی بات یہ ہوئی کہ پاکستان کو گللو بھائی کی شکل میں جان ریمبو مل گیا. دوسری،  یقینن اگلے پنجاب فسٹیول میں گللو بھائی سب سے زیادہ شیشے توڑ کر گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بن جائیں گئے. تیسری، آئی جی پنجاب پولیس نے گللو بھائی کو اپنا  Super Cop قرار دے دیا .

 لاہور میں ہونے والے گیلپ سروے کے مطابق، عوام گللو بھائی کو ان کی بہادری پر اسمبلی کا ممبر دیکھنا چھاتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ  گللو بھائی کو ان کی بہادری پر سترہ ا جرات دیا جائے.

چلتے چلتے گللو بٹ کی موچھوں کے بارے میں صرف اتنا  کہوں گا

کل چودہویں کی رات تھی,شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نے کہا یہ رانا ثنااللہ  ,کچھ نے کہا گللو میرا


Also Published in 
ARY

Twitter ID: @fawadrehman

Tuesday, June 10, 2014

اور پھر جیل ٹوٹ گئی


7 جون کا سورج پاکستان میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی پرجوش آواز کے ساتھ طلوع ہوا. آواز کا آنا تھا کہ پانچ دن سے دھرنے پر بیٹھے ہوئے ایم کیو ایم کارکنوں میں جیسے  زندگی کی ایک  نئی لہر سی دور گئی.  کراچی، حیدرآباد، سکھر، پنجاب، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے ساتھ ساتھ امریکا اور برطانیہ کئی شہر الطاف حسین اور  ایم کیو ایم کے نعروں سے گونچ اٹھے  .کوئی خوشی سے رو رہا تھا تو کوئی الله کے حضور سجدے کر رہا تھا تو کوئی اپنا اور دوسرے کا منہ میٹھا کروا رہا تھا، جوشیلے جوان مظلوموں کا ساتھی ہے الطاف حسین کے ترانے پر جھوم رہے تھے، غرض یہ کے ہر کوئی اپنے انداز میں خوشی منا رہا تھا مگر ان سب میں ایک مشترکہ عزم تھا کہ ان کے اور الطاف حسین کے درمیاں انے والی ہر دیوار اور سازش کا انجام " ناکامی " ہی ہو گا.
   
1987 میں بھی الطاف حسین پر فرضی الزامات لگا کر کراچی کی سینٹرل جیل میں قید کردیا گیا تھا. ایم کیو ایم کے کارکنوں اور  ہمدردوں نے اپنےقائد کی رہائی کے لیےعوامی مہم اور احتجاج کا آغاز کیا، بلاآخر حکومت وقت نے الطاف حسن پر تمام جھوٹے مقدمات ختم کر کے ان کو بری کرنے کا حکم دیا، جیل انتظامیہ نے رہائی میں تاخیر کی تو عوام نے جیل کی دیوارتوڑ کر اپنے محبوب قائد الطاف حسین کو آزاد کروایا.  یہ واقعہ میرا آنکھوں دیکھا ہے  ، گھرآکر والد صاحب کو بتایا تو والد صاحب نے فرمایا " بھٹو صاحب نے پھانسی سے پہلے کہا تھا کے کاش میں کراچی والوں کے ساتھ دیتا تو وہ مجھے پھانسی کے پھندے سے بچا لیتے"

   
خیر بات ہو رہی تھی ایم کیو ایم دھرنوں کی، میری نظر میں ان کو دھرنا کہنا غلط ہو گا. یہ  دھرنے نہیں بلکہ  صبر، نظم و ضبط ، عقیدت، احترم اور اتحاد کے میلے تھے. جہاں دودھ پیتے بچوں سے لے کر  90 سال کے بزرگ شریک تھے. خواتین بلا خوف خطر اپنے الطاف بھائی کے لے دعا اور یا سلامُ  کا ورد کر رہی تھیں. نہ کسی کو بھوک کی فکر تھی نہ ہی دھوپ کی، نہ دن کی نہ رات کی. چھوٹی چھوٹی بچیاں ہاتھ جوڑ کر الطاف حسین کی امان کی دعائیں مانگ رہیں تھیں. مائیں اپنا آنچل پھیلا پھیلا  کر اپنے بیٹے کے لیے دعا کر رہیں تھیں,  بھائیوں کے غصے کی شدت، سورج کی شدت کو ماند کر رہی تھی.  گو ہر شخص کھلے آسمان تلے سڑک پر صبر  سے بیٹھا تھا  



ایم کیو ایم کے کارکن اور لیڈرز کے ساتھ ساتھ  سول سوسائٹی ، کاروباری برادری، مختلف سیاسی اور مذہبی رہنماوں بھی دن اور رات ان دھرنوں میں عوام کے ساتھ شریک تھے. ان دھرنوں میں ایک بڑی تعداد  ان کم عمر نوجوان اور بچوں کی تھی جو کبھی بھی الطاف حسن سے اپنی زندگی میں نہیں ملے. الطاف حسین کی 34 سال کی تربیت کا کمال تھا کہ پانچ دن میں عوام اور کارکنان کا صبر اور نہ ہی کسی درخت کا ایک پتہ بھی ٹوٹا .

سازشیں اور مشکلات ایم کیو ایم کارکنوں اور الطاف حسین کے چاہنے والوں کے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہیں. پچھلے  کئی  سالوں سے روزانہ بلا ناغہ شام آٹھ بجے سے رات بارہ بجے تک پنجاب سے ٹی وی پر  بیٹھ کر، لال پیلی ٹائی پہن کر، نام نہاد اینکرز -  ایم کیو ایم، الطاف حسین اور مہاجروں کے خلاف اپنے من کا میل نکالتے ہیں، کبھی الطاف حسین کے چیپٹر ختم کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے، کبھی گروپنگ کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے  تو کبھی مہاجروں کو بھوکا ننگا بولا جاتا ہے تو کبھی قرآن پاک کو سر پر رکھ کر جھوٹ کو سچ کروانے کی  کوشش کی جاتی ہے. مگر ہر بار عوام نے اپنی محبت اور ہمت  سے ہر سازش اور مشکل کو اس کے منطقی انجام تک پہونچایا .

طوفان کر رہا ہے میرے عزائم کا طواف
 دنیا سمجھ  رہی ہے کہ کشتی بھور میں ہے

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کے کہ ایک بار پھر الطاف حسین کے ماننے  والوں نے 6 اور 7 جون کی درمیانی شب  اپنے صبر، حوصلے، اور  نظم و ضبط  سے جیل توڑ کر اپنے محبوب قائد کو جھوٹے  مقدمات سے بری کروایا مگر فرق صرف اتنا تھا کہ پہلی بار ایم کیو ایم کے مضبوط ہاتوں نے کراچی جیل کی اور اس بار ایم کیو ایم کے مصبوط ارادوں نے برطانوی جیل دیواریں گرا دیں 

یہاں یہ بات قبل غور ہے کہ الطاف حسین پولیس اسٹیشن سے رہائی کے بعد جب باہر آئے تو ان کو برطانوی حکومت نے سرکاری  پولیس پروٹوکول دیا. پولیس کی گاڑیاں نے الطاف حسین کی کار کو اپنی سیکورٹی میں ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر پہونچایا . پولیس نے سرکاری طور پر اعلان بھی کیا کہ الطاف حسین پر کوئی مقدمہ نہیں ہے. یہاں مجھے الطاف حسین کے یہ الفاظ یاد آگے " میں نے کبھی اپنی قوم کا سر نہیں جھکنے دیا اور نا کبھی جھکنے دوں گا "

میں ایک بات بار بار سوچتا ہوں، جو لوگ الطاف حسین کی  محبت میں صبر اور  نظم و ضبط  سے دھرنوں میں بیٹھے تھے اگر یہی لوگ الطاف حسین کی محبت میں اٹھ کھڑے ہوتے تو ؟

تم گرانے میں  لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیں

                میں گرا تو, مسلہ بن کر کھڑا ہو جاؤنگا   

Also Published:
          


    

  • Twitter ID: @fawadrehman

Wednesday, May 7, 2014

عمران خان کا بڑھاپے میں بچپنا

 جہاں الله تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں لا محدود نعمتوں سے نوازا ہے وہیں انسان کوغیر معمولی بیماریوں کا عطیه بھی  دیا  ہے.ان بیماریوں میں سے ایک بینجامن بٹن (Benjamin Button)  کہلاتی ہے. اس بیماری میں انسان جسمانی طور پر بچہ پیدا ہوتا ہے مگر ذہنی تو پر کسی دانش مند آدمی کا ذہن  رکھتا ہے. وقت کے ساتھ ساتھ جسم تو  بڑھتا ہے مگر عقل گھٹنا   شروع ہو جاتی ہے یعنی بڑھاپے میں انسان  کمسن بچے کے مانند حرکتیں کرتا ہے (Reverse Aging) . ضد، رونا ، چیخنا,  سست روی اور بچکانہ حرکتیں معمول بن جاتی ہیں  .


نجانے کیوں مجھے تو تحریک انصاف کے سربراہ  عمران خان بھی اسی ہی کسی بیماری کا شکار لگتے ہیں 

میرا تجزیہ کسی پسند یا ناپسند پر نہیں بلکہ  خان صاحب  کی حرکات اور سکنات پر مبنی ہے. دیکھیں نا، جس عمر میں نوجوان  اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتا  ہے اس عمر میں خان صاحب اک بچی کے باپ بن گئے تھے، جس عمر میں نوجوان نوکری کے لیے دربدر بھٹکتا ہے  اس عمر میں خان صاحب  نے پاکستان کو ورلڈ کپ جتوا دیا تھا اور جس عمر میں مسلمان حج اور عمرے کا سوچتا ہے اس عمر میں خان صاحب   رنگرلیاں  مناتے ہیں

اب جبکہ خان صاحب ریٹائرمنٹ کی عمر کو  پہنچ  رہے  ہیں مگر ضد کا یہ عالم ہے کہ ابھی تک اپنے آپ کو نوجوان اور نوجوانوں کا لیڈر مانتے ہیں، ١١ مئی کو الیکشن ہار گئے مگر  ضد پر اڑے ہیں میں ہی جیتا تھا، ایک سال  بعد دھاندھلی  کا خیال آتےہی جلسے اور جلوس کا اعلان کردیا اور کہنے لگے " کرلو جو کرنا ہے میں ہی جیتا تھا ". ( بینجامن بٹن  میں ضد بہت بڑھ جاتی ہے)

جب انسان کا جسم  بڑھ جاتا ہے اورذہن  جھوٹا ہوجاتا ہے تو انسان خود بخود سست ہوجاتا ہے، خان صاحب کے لیے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کے وہ ہر بات کو بہت دیر میں سمجھتے ہیں یعنی عوامی ایکسپریس کی آخری بوگی میں بیٹھ کر آتے ہیں.  مشرّف کا ساتھ دیا، سابق چیف جسٹس کا ساتھ دیا، طاہر القادری کا ساتھ نہیں دیا, خیبر پختونخواہ میں حکومت بنا لی، آج جاکر احساس ہوا  کے غلطی ہو گئی. ( بینجامن بٹن  میں سست روی بہت بڑھ جاتی ہے)


آج کل سپریم کورٹ سے انصاف نہ ملنے پر رو رہے ہیں میں تو یہ  بھی کہوں گا ناصرف رو رہے ہیں بلکہ  چیخ  بھی رہے ہیں. گو کہ  دھاندلی کے تمام ثبوتوں کے ہونے کا دعوی کرتے ہیں پر دیتے نہیں ہیں. 
فرماتے ہیں کے 35 پنچر کا  ٹیپ بھی موجود ہے پر یہ نہیں بتا رہے ٹیپ لگنے والا ہے یا بجانے والا ؟ . آج بھی قومی وطن پارٹی کے منسٹرز اپنے اپر لگے کرپشن کے الزامات کے ثبوت مانگ رہے ہیں پر خان صاحب ثبوت نہیں دیتے اور ناہی کورٹ میں جمع کراتے ہیں. کبھی 'صحت کا انصاف' مہم کی تعریف چیخ چیخ کر کرتے ہیں اور پھر اپنے ہی صحت کے وزیر کو خراب کارکردگی پر نکال دیتے ہیں .... ثبوت مانگ کر شرمندہ نہ کریں. ( بینجامن بٹن  میں  رونا ، چیخنا  اور ضد  بہت بڑھ جاتی ہے)

بچکانہ حرکتوں میں تو خان صاحب ماسٹر ہیں. امریکی ڈالر کے علاوہ ہر چیز پربچوں کی طرح لڑتے ہیں مثال کے طور پر, کبھی نیٹو سپلائی بلاک کر دیتے ہیں تو کبھی اپنے پسندیدہ جیو ٹی وی کا بائیکاٹ کر دیتے ہیں تو کبھی عدلیہ کو اپنی ہار کا ذمہ دار, تو کبھی جیو ٹی وی کوالیکشن میں دھاندلی کا  ذمہ دار. مطلب یہ کے ہر روز موڈ  سوئنگس (Mood swings) ہوتے ہیں اور جو لپیٹ میں آجائے اس کی واٹ لگادیتے ہیں. روزانہ شام 7 بجے کے بعد رنگین محفلیں سجتی ہیں اور خان صاحب کسی نوجوان کی طرح ان محفلوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں. ( بینجامن بٹن  میں بچکانہ حرکتیں معمول بن جاتی ہیں )


تحریک انصاف کے دستوں سے گزارش ہے کہ عمران خان سے کھیلنے  کے بجائے ان کا کسی اچھے ڈاکٹر سے علاج کروائیں. میں مانتا ہوں خان صاحب ایک  تفریح  کا سامان ہیں جن سے بچے اور بڑے سب لطف  اندوز ہوتے ہیں مگر خان صاحب ہمارے نیشنل ہیرو 
بھی ہیں اور ہم سب کو ان سے بہت  پیار ہے. ٹی وی چینلز سے بھی گزارش ہے کے خان صاحب کو 
پروگراموں میں  بلانے کے بجائے کوئی کامیڈی پروگرام دکھا  دیا کریں.  کسی مریض کی بیماری کو سرے عام اچھالنا اخلاقی آداب  کے منافی ہے. طبی تحقیق کاروں سے گزارش ہے کے عمرانی U-Turns کو بھی بینجامن بٹن کی  نشانیاں اور علامات (Signs and symptoms) میں شامل کرلیں  شکریہ


نوٹ: کراچی کی زبان میں بینجامن بٹن بولے تو؟ سیدھا کرو تو گڈا، الٹا کرو تو بڈھا.


Twitter ID: @fawadrehman

Wednesday, April 9, 2014

پاکستان تحریک انصاف کے خود کش بمبار


پاکستان تحریک انصاف، خیبر پختونخواہ  کے 14 ارکان صوبائی اسمبلی  نے کرپشن اقربا پروری اور بے ضابطگیوں کے خلاف خیبر پختونخواہ اسمبلی پر خود کش حملہ کردیا. ذرائع ابلاغ کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا پر دھماکوں کی شدت بنی گلہ پنجاب تک محسوس کی گئی.

 خیبر پختونخواہ اسمبلی پر ہونے والے خود کش حملے کی ذمہ داری   " پی ٹی آئی ہم خیال گروپ " نے  لے لی ہے. گروپ کے سربراہ اورترجمان جناب قربان علی خان جو کہ  خود بھی خیبر پختونخواہ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی ہیں، میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی .

    قربان علی خان نے مزید بتایا کے ان دھماکوں کا مقصد، پی ٹی آئی کے وزراء کا کرپشن ملوث ہونا ، ذاتی پسند اور نا پسند پر تقرریوں کروانا ، میرٹ  کو نظرانداز کرنا , پی ٹی آئی کےمنشور سے انحراف کرنا, پارٹی کی  اصل تصویر کو بحال  کرنا اور موقع پرست اور کرپٹ عناصر کو بے نقاب کرنے کے لئے ہے. 

پی ٹی آئی کے چیف عمران خان نے دھماکوں سے ہونے والے نقصانات کا تعین کرنے کے لیے بنی گلہ پنجاب میں اپنے خوشامدی حامیوں کا ایک اجلاس طلب کیا. گوکہ عمران خان آج کل پارٹی کے سیاسی امور پر کوئی خاصی دلچسپی نہیں لیتے مگر جب بات پارٹی فنڈز پر آجائے تو بھلا خان صاحب کہاں خاموش رہنے والے ہیں. یہ  بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ یو ایس ایڈ کے ڈالرز کی پیدائش خیبر پختونخواہ میں اور پرورش بنی گلہ میں ہوتی ہے . 

 پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق اجلاس شروع ہی ہوا تھا کہ میدان جنگ بن گیا ڈاکٹر شیریں مزاری نے جناب جہانگیر ترین کا داخلہ خیبر پختونخواہ میں بند کردیا اور جہانگیر ترین نے جوابی حملہ کرتے ہوئے  ڈاکٹر شیریں مزاری کا داخلہ پی ٹی آئی میں بند کردیا ، پھر کیا تھا الله دے اور بندا لے ... انصافیوں میں, ناانصافی اور کرپشن کے بندر بانٹ میں بے ضابطگیوں کی وہ داستان امیر حمزہ پڑھی گئیں کہ عقل بھی دھنگ رہ گئی . دولت اور طاقت کو جاتا دیکھ کر خان صاحب میدان جنگ میں کود پڑے اور حالات کو کنٹرول میں کیا. ذرائع نے مزید بتایا کہ عمران خان نے اپنی صوابدیدی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر مزاری کو واپس ان کے پوسٹ پر بحال  کردیا . 

     اس کے علاوہ ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ بنی گلہ پنجاب میں ہونے والی دوسری اہم ملاقات میں ، ١٤ باغی ارکان اسمبلی نے عمران خان پر اپنے مطالبات کی فہرست واضح  کردی. فہرست کے مطابق :  

 1: پیسوں کے بدلے وزیروں  اور مشیروں کی تقروریاں بند کی جائیں
2: پنجاب سے ہونے والے جہانگیر تارینی حملے فوری روکے جائیں 
3: سرکاری فنڈز کی ذاتی اکاؤنٹس میں منتقلی کا نوٹس لیا جائے
4:پنجاب سے SKYPE اور  Blackberry کے زریعے خیبر پختونخواہ کو کنٹرول کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے
5: خیبر پختونخواہ حکومت کے وسائل پر ان کا حصہ بھی  برابری کی بنیاد پر ہونا چاہیے
  6 : لوٹوں اور نوٹوں کو انصافیوں پر سبقت دینے کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے . 

باغی ارکان اسمبلی نے عمران خان سے اپنے تحفظات پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ بھی  کیا بصورتِ دیگر پی ٹی آئی کی کرپشن پر خود کش  حملے جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا . 

عمران خان کے قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عمران خان خیبر پختونخواہ  کی سیاسی صورتحال کو لیکر شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں.  

عمران خان اچھی طرح جانتے ہیں کہ خیبر پختونخواہ کی اسمبلی تحلیل کرنے اور ناکرنے، دوںوں  ہی صورتوں میں  پی ٹی آئی  خیبر پختونخواہ میں اپنی اکثریت برقرار نہیں رکھ سکتی . کچھ ماہ قبل قومی وطن پارٹی کے وزراء پر کرپشن کا الزام لگا کر تحریک انصاف  نے اپنے وزرا کی کرپشن کو چھپا لیا تھا مگر اس بار  تحریک انصاف کے اپنے ہی ارکان اپنی پارٹی اور اس کی لیڈرشپ کے خلاف فدائیان ھوگئے  ہیں. تبدیلی کا جو نعرہ عمران خان نے لگایا تھا وہ اب پی ٹی آئی کی سونامی میں خودہی بہتا جارہا ہے 

Twitter ID: @fawadrehman

Also Published:
Saach TV

Thursday, March 20, 2014

Middle East: The Taliban’s new killing field

The Government of Pakistan received a cash gift of $1.5 billion from friendly Arab countries on “No Special Occasion”. Undeniably, cash is always welcome in Pakistan as aid, charity or gift. Indeed, this generous and mysterious “gift” helped Pakistan ease economic pressure, strengthened the devalued rupee, helped shore up foreign exchange reserves and meet the debt-service obligations.


According to the Federal Minister for Finance, Ishaq Dar, “It was neither a loan nor given in return for any services.”  Maybe not for the Government of Pakistan, but for common citizens this sounds too good to be true.

There is one adage that has held true since time immemorial: There ain’t no such thing as a free lunch. So what's the catch?

●     Saudi Arabia wants Pakistan to supply arms and ammunition to Syrian rebels.
●     Saudi Arabia wants Pakistan’s support to topple Bashar al Assad in Syria and the formation of an interim governing body.
●     Saudi Arabia wants more mercenaries and ex-military officials to help suppress the uprising in Bahrain
●     Saudi Arabia wants Pakistan to abandon the Iran gas pipeline.
●     Saudi Arabia wants ready-made Pakistani Nukes.

The Saudis fear that the United States is willing to accept Iran’s position as regional leader. Iran has increased its influence in Iraq and through Hezbollah in Lebanon, and if Bashar al Assad’s regime stays in power, Iran wins in Syria too. Saudi Arabia and many Gulf states are afraid that the so called “Shia block” will expand from the Persian Gulf to the Eastern Mediterranean shore, if Assad stays in power.

Saudis are less worried about a nuclear Iran as compared to the United States. There are reports that Saudis already paid for the bomb and Pakistan is ready to ship nukes to Saudi Arabia when needed.



Pakistani forces have a long history of meddling in Middle Eastern conflicts.

      In 1970, the then King of Jordan asked Brigadier Zia ul Haq (later Chief of Army Staff and President of Pakistan) to take over the command of a Jordanian division for an attack on Palestinian guerrillas. A military action also known as “Black September”. PLO chief Yasser Arafat later claimed that the Jordanian army killed between 10,000 and 25,000 Palestinians.
      Fighter Pilots of the Pakistan Air Force flew aircraft of the Royal Saudi Air Force to repel an incursion from South Yemen in 1969
      During the 1973 Arab–Israeli War, Pakistani Air Force pilots flew combat missions in Syrian aircrafts, and shot down Israeli fighters.
      In the 1970s and 1980s up to 15,000 Pakistani troops were stationed in the kingdom, some in a brigade combat force near the Israeli-Jordanian-Saudi border
      1990-1991 Persian Gulf War, Pakistan sent troops to protect the Islamic holy sites in Saudi Arabia.
      During Arab spring 2011, Bahrain has reported to have recruited 2,500 Pakistanis (mercenaries) to serve in its security forces to quell protesters from the Shiite majority.

Saudi Arabia has been funneling large sums of money into Pakistan since the 1970s to promote its anti-Shia strand of Wahabi Islam. Banned outfit Tehreek-e-Taliban Pakistan TTP (mostly Pashtoon Taliban) and Lashkar-e-Jhangvi (Punjabi Taliban) both are followers of Saudi-sponsored Wahabi extremism.

The Associated Press and Reuters reported that hundreds of Pakistani jihadists, including members of the Pakistani Taliban and some from the Lashkar-e-Jhangvi, are fighting in Syria along with AlQaeda.

"Our aim and purpose is to fight against the Shiites and eliminate them" A Pakistani Taliban fighter in Syria told The Associated Press.

First official visit of the King of Bahrain to Pakistan in four decades has risen concerned in Pakistan. Conflicts between the Shiite and Sunni Muslims are a recurring problem in Bahrain. The Sunni minority, to which the ruling al-Khalifah family belongs, controls nearly all the power and wealth in the country. The Shiites continue to agitate for more representation in government.

There is a growing fear in Pakistan that Bahrain would recruit Punjabi Talibans as “mercenaries” to help suppress the Shiites uprising in Bahrain. The current government in Pakistan has close ties with the banned outfit Lashkar-e-Jhangvi (Punjabi Talibans).

According to Long War Journal “Punjab Provincial Law Minister Rana Sanaullah is under fire for publicly campaigning with top leaders of the radical Sipah-e-Sahaba, the forerunner to the Lashkar-e-Jhangvi, an al Qaeda pawn that provides muscle for the terror group.”




Muttahida Qaumi Movement (MQM) Chief Altaf Hussain has urged the government of Pakistan not to indulge in a war to serve the interests of other countries and should not repeat mistakes of the past.

After three decades, Pakistan is still paying the price for the Afghan war. Terrorism, Jihadists, Extremism, and a weak economy are all gifts of bad policies made by former rulers during the Afghan war. Once again Pakistan is at the crossroads of national integrity or regional instability.

Twitter ID: @fawadrehman